اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے
مطابق، روسی خبر ایجنسی سپوتنک (Sputnik) کی
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ فوجی دستے عرب ممالک ـ بالخصوص شام ـ کی طرف سے غاصب
صہیونی ریاست کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کا دوسرا مرحلہ سرانجام دینے کی غرض سے شام
پہنچے ہیں۔
واضح رہے کہ یمن کی مسلح افواج اسپیشل فورسز کے کئی بریگیڈوں پر مشتمل ہے، ان بریگیڈوں نے حالیہ مہینوں میں مختلف النوع فوجی مشقوں کے تحت تربیتی مراحل طے کئے ہیں اور یہ بریگیڈز یمنی افواج اور انصار اللہ تحریک کے سب سے طاقتور اور مضبوط، مختلف ہتھیاروں سے لیس اور سب سے زیادہ تجربہ کار بریگیڈز ہیں، جنہوں نے کئی مرتبہ اسرائیلی فوجی اڈوں اور ان کے زیر قبضہ نوآباد بستیوں میں داخلے کی مشقیں سر انجام دی ہیں۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں لبنانی ذرائع میں متعدد رپورٹیں شائع ہوئی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ صہیونی ریاست شام کے جنوب پر حملہ کرکے، شام اور لبنان کے درمیان رسد کے راستوں کی بندش کا ارادہ رکھتی ہے، اور کچھ رپورٹوں میں جنوبی لبنان سے عوامی انخلاء پر مبنی ہیں لیکن حزب اللہ نے ان رپورٹوں کی تردید کی ہے۔
مجموعی طور پر، جنوبی لبنان یا جنوبی شام پر غاصب صہیونی ریاست کا ممکنہ حملہ ایک قابل توجہ منظرنامہ ہو سکتا ہے، جس کا موجودہ مرحلے میں امکان پایا جاتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ صہیونی ریاست اور نیتن یاہو کی کابینہ اپنی بقاء کی خاطر، جنگ کا دورانیہ طویل تر کرنے کے لئے، لبنان یا شام میں کوئی بھی اقدام کر سکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
110